مفتی صاحب! میرے والدین کی لڑائی ہو گئی یہ معاملہ میرے سامنے پیش آیا، میرے والد نے والدہ کو بولا میں ابھی تجھے طلاق دے دوں گا تو والدہ نے کہا ہاں طلاق دے دو تو والد نے کہا جا تجھے طلاق دے دی،جا دے دی،جا دے دی تو آزاد ہوگئی، لیکن اب والد صاحب طلاق سے انکار کر رہے ہیں، جب کہ میں(بیٹا) اس بات کا گواہ ہے، اس صورت میں کیا حکم ہے ؟ ذرا رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا
واضح رہے کہ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان طلاق کے وقوع پر اختلاف ہو جائے تو بیوی پر اپنے دعوے کے ثبوت میں گواہ پیش کرنا لازم ہیں، اگر بیوی کے پاس اپنے دعوے پر دو گواہ نہ ہوں تو شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر شوہر قسم اٹھا لے تو قضاءً (عدالتی لحاظ سے) نکاح برقرار رہے گا، البتہ اگر بیوی نے خود اپنے کانوں سے شوہر کو تین طلاقیں دیتے ہوئے سنا ہے تو دیانۃً (شرعاً ) وہ شوہر کے لیے حلال نہیں رہے گی اور بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کو اپنے قریب نہ آنے دے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی والدہ کے پاس گواہ ہیں اور وہ طلاق کی گواہی دے دیں تو ان الفاظ سے تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور اگر گواہ نہیں ہیں تو آپ کے والد پر قسم لازم ہوگی، اگر آپ کے والد قسم اٹھا لیں تو قضاءً نکاح برقرار رہے گا، مگر دیانۃً نکاح ختم سمجھا جائے گا اور آپ کی والدہ پر لازم ہے کہ شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دیں اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔
القرأن الكريم: (البقرة2: 230)
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ
الشامية: (3/ 369،ط:دارالفكر)
إذا سمعت المرأة الطلاق ولم تسمع الاستثناء لا يسعها أن تمكنه من الوطء اهـ أي فيلزمها منازعته إذا لم تسمع.
البحر الرائق:(277/3،ط: دارالكتاب الإسلامي )
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ
الهندية:(1/ 473، ط: دارالفكر)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية .