طلاق

ایک بیوی کی ناراضگی کی وجہ سے دوسری بیوی کو طلاق دینا

فتوی نمبر :
1814
معاملات / احکام طلاق / طلاق

ایک بیوی کی ناراضگی کی وجہ سے دوسری بیوی کو طلاق دینا

السلام علیکم
ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے مسئلہ کچھ اس طرح ہے کہ میں پاکستانی ہوں، یہاں میری شادی ہوئی بچے بھی ہیں، کچھ عرصہ پہلے میں ملائیشیا چلا گیا وہاں ایک عورت سے شادی کر لی، جسکی وجہ سے میری پاکستانی بیوی بہت ناراض تھی تو میں نے ملائیشین بیوی کو ایک طلاق دے دی اور پھر میں نے اپنی پاکستان والی بیوی کو کہہ دیا کہ میں نے اس کو طلاق دی ہے تو اس کے بعد جب میں ملائیشیا آیا تو میری پاکستانی بیوی بہت بیمار تھی تو میں نے اپنی پاکستانی بیوی کو کہا کہ میں اس کو تین طلاق دوں گا اس کے بعد اپ ٹھیک ہو جاؤ گی، لیکن میں نہیں چاہ رہا تھا کہ میں ملائیشین بیوی کو تین طلاق دے دوں، پھر میں نے ملائیشین بیوی کو تین طلاق دے دیں، اس لیے کہ میری پاکستانی بیوی خوش ہو جائے، لیکن پھر بھی وہ خوش نہیں ہوئی۔
اب اس کا کیا مسئلہ نکلے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلام میں طلاق کی اجازت صرف اسی وقت ہے، جب میاں بیوی کے درمیان اصلاح کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں اور ساتھ رہنا نقصان کا سبب بن جائے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک بیوی کی ضد یا فرمائش پر دوسری بیوی کو بلاوجہ طلاق دے دی جائے، ایسے رشتے جنہیں اللہ نے جوڑا ہے، انہیں بغیر وجہ توڑنا سخت ناپسندیدہ ہے، قرآن و حدیث میں صلہ رحمی اور رشتوں کو جوڑے رکھنے کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔

آپ کو ہر گز پاکستانی بیوی کے ناراض ہونے اور اس کے کہنے کی وجہ سے ملائیشیا والی بیوی کو طلاق نہیں دینی چاہیے تھیں، البتہ چونکہ آپ اسے تین طلاقیں دے چکے ہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔
واضح رہے کہ تین طلاق کی صورت میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق نہیں رہتا اور نہ ہی عدت کے بعد وہ دونوں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، جب تک عورت کسی اور مرد سے نکاح نہ کرے اور اس کے ساتھ حقوقِ زوجیت ادا نہ کرے، پھر اگر دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے یا وہ وفات پا جائے اور اس کی عدت مکمل ہو جائے تو اس کے بعد عورت اور پہلا شوہر دونوں کی رضا مندی سے، نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں، دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم: (البقرہ:230:2)*
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۚ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللّٰهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللّٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.

*صحيح البخاري:(22/7،رقم الحديث:5152،ط:دار طوق النجاة)*
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن زكرياء هو ابن أبي زائدة، عن سعد بن إبراهيم، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: «لا يحل لامرأة تسأل طلاق أختها لتستفرغ صحفتها فإنما لها ما قدر لها.»

*الهندية:(1/ 473، ط: دارالفكر)*
وإن كان الطلاق ‌ثلاثا ‌في ‌الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية .

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(3/ 187،ط: دار الكتب العلمية)*
‌وأما ‌الطلقات ‌الثلاث ‌فحكمها ‌الأصلي ‌هو ‌زوال ‌الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
20
فتوی نمبر 1814کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --