السلام علیکم و رحمة اللّٰه و بركاته!
ایک شخص نے اپنی بیوی سے جھگڑے کے دوران کہا کہ "تو مجھ پر حرام ہے" اور ایسے تین چار، بار مختلف مواقع پر کہا ہے، بلکہ ایک بار یہ بھی کہا ہے کہ "تو میری طرف سے آزاد ہے". اس کا کیا حکم ہے؟ (شوہر کی نیت کے بارے میں معلوم نہیں، بیوی کی طرف سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے)
تنقیح:
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
اس صورت میں شوہر نے پہلے کونسے الفاظ استعمال کیے ؟
تو آزاد ہے۔ یا تو مجھ پر حرام ہے ؟
جواب تنقیح:جی معذرت خواہ ہوں.
شوہر نے پہلے "حرام" کا لفظ استعمال کیا تھا، واٹس ایپ پر بات ہو رہی تھی بیوی نے کہا کیمرہ آن کرو، شوہر نے کہا کہ "میں تجھے اپنا چہرہ نہیں دکھانا چاہتا تو مجھ پر حرام ہے " بیوی نے اصرار کیا تو شوہر نے پھر یہی کہا... لڑائی کافی عرصے سے جاری تھی اس واقعہ کے چند دن بعد بیوی نے کہا کہ میں گھر جانا چاہتی ہوں شوہر نے کہا "تو میری طرف سے آزاد ہے جانا چاہتی ہو تو جاؤ نہیں جانا چاہتی تو مت جاؤ" پھر کچھ دن بعد دوبارہ" تو مجھ پر حرام ہے" کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور مجموعی طور پر 3 یا 4 بار حرام کے الفاظ استعمال کیے، درمیان میں ایک بار آزاد کا لفظ استعمال کیا ہے۔
„تو مجھ حرام ہے" مذکورہ الفاظ طلاق کے لیے صریح کنائی الفاظ ہیں، یعنی ان الفاظ سے بغیر نیت کے طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے اور طلاق بائن کے بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ ایک طلاق بائن سے نکاح ختم ہو جاتا ہے، دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں اور نہ ہی اس کے بعد دی گئی مزید طلاقیں واقع ہوتی ہیں، جب تک کہ دو گواہوں کی موجودگی میں، باہمی رضامندی سے نئے سرے سے نکاح نہ کیا جائے، لہذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہو چکی ہے، اب دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں، آئندہ ساتھ رہنے کے لیے جانبین کی رضامندی، نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح ضروری ہے، تاہم نکاح جدید کے بعد شوہر کو محض دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ۔
البحرالرائق:(3/324،ط:دارالکتب الاسلامی)
عن الفتاوى أنه لو قال لها أنت علي حرام، والحرام عنده طلاق وقع، وإن لم ينو، وذكر الإمام ظهير الدين لا نقول لا تشترط النية ولكن نجعله ناويا عرفا.
أيضاً:(3/333)
وفرق في الذخيرة بين أنت بائن للمبانة وبين وقوع أنت بائن المعلق بعد الإبانة أنه لما صح التعليق أو لا لكونها محلا له جعلنا المعلق الطلاق البائن وصار بائنا صفة للطلاق، والمعلق بالشرط كالمنجز عند وجوده فكأنه قال في العدة أنت طالق بائن ولو قاله وقع بخلاف أنت بائن منجزا في عدة المبانة لأنه صفة للمرأة وهي لم تكن محله لأن محله من قام به الاتصال، وقد انقطعت الوصلة بالإبانة.
الشامیة:(3/306،ط:دارالفکر)
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح۔۔۔۔(لا) يلحق البائن (البائن).
الدر المختار :(252/3،ط: دار الفکر)
"ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف."
وفی الرد تحته:
"(قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر...كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية".
امداد الاحکام :(463/2،ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)
"سوال:اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ" تم میرے واسطے حرام ہوگئی"تو اس کا شرع میں کیا حکم ہے؟
جواب:صورتِ مسئولہ میں اس شخص کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی۔"