مسائل قربانی

دوسرے کی طرف سے قربانی ادا کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1406
عبادات / قربانی و ذبیحہ / مسائل قربانی

دوسرے کی طرف سے قربانی ادا کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ میرے چھوٹے بھائی ہیں اور ان کی وائف ہیں اور دونوں نصاب کے مالک ہیں لیکن قربانی کے لیے میں ان کے پاس کوئی نقد رقم نہیں کيا میں ان کی طرف سے قربانیاں ادا کر سکتا ہوں رقم دے کر؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر آپ کے بھائی اور ان کی اہلیہ نصاب کے مالک ہیں تو قربانی انھی پر واجب ہے، البتہ اگر ان کے پاس اس وقت نقد رقم موجود نہیں، تو آپ اُنہیں قرض یا ہدیہ (تعاون) کے طور پر رقم دے سکتے ہیں، تاکہ وہ اپنی قربانی ادا کریں،لیکن اگر آپ ان کی اجازت سے اپنی طرف سےپیسے دے کر ان کی قربانی ادا کر دیں تو وہ قربانی درست ہے ۔

حوالہ جات

*الفتاوى الهندية:(5/ 302،ط: دار الفكر)*
ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغاراً جاز عنه وعنهم جميعاً في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى ، وإن كانوا كباراً إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى.

*البحر الرائق:(202/8 ،ط:دار الکتاب الاسلامي)*
ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعن أولاده فإن كانوا صغارا أجزأه وأجزأهم وإن كانوا كبارا فإن فعل ذلك بأمرهم فكذلك، وإن كان بغير أمرهم لم يجز على قولهم وعن أبي يوسف أنه يجوز استحسانا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1406کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --