نکاح

دودھ پینے والے بچے کے حقیقی بہن بھائیوں کا رضاعی بہن بھائیوں سے رشتے کا حکم

فتوی نمبر :
1390
معاملات / احکام نکاح / نکاح

دودھ پینے والے بچے کے حقیقی بہن بھائیوں کا رضاعی بہن بھائیوں سے رشتے کا حکم

اگر کسی عورت نے کسی بچے یا بچی کو دودھ پلا دیا ہو اور وہ اس کی رضاعی ماں بن گئی ہو تو کیا اس بچے یا بچی کے حقیقی بہن بھائیوں کا بھی اس عورت کے بچوں سے رضاعی رشتہ قائم ہو جاتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مدت ِ رضاعت میں دودھ پینے والے پر دودھ پلانےوالی عورت ،اس کے شوہر اوراصول وفروع حرام ہو جاتے ہیں، البتہ دودھ پینے والے کے حقیقی بہن بھائی، دودھ پلانے والی عورت کی اولاد کے لیے حرام نہیں ہوتے۔

حوالہ جات

*الهندية: (1/ 343،ط:دارالفكر)*
والمسألة الثانية لا يجوز لرجل أن يتزوج أم أخته من النسب ويجوز في الرضاع لأن في النسب إن كانا أخوين لأم فأم الأخ أمه وإن كانا أخوين لأب فأم الأخ امرأة أبيه وهذا المعنى معدوم في الرضاع كذا في المحيط وتحل ‌أخت ‌أخيه ‌رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي وتحل أم أخيه وأم عمه وعمته وأم خاله وخالته من الرضاع هكذا في شرح الوقاية.

*الشامية: (3/ 217،ط:دارالفكر)*
(‌وتحل ‌أخت ‌أخيه ‌رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.(و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
39
فتوی نمبر 1390کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --