مفتیانِ کرام!
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں بیوی اور اس کی سوتیلی ماں کو جمع کرسکتا ہے یا نہیں؟
شریعتِ مطہرہ میں حرمتِ مصاہرت (رشتۂ نکاح کی وجہ سے حرمت) صرف اُن عورتوں تک محدود ہے جن سے قرآن و سنت نے صراحت کے ساتھ نکاح کو حرام قرار دیا ہے، جیسے حقیقی ساس (بیوی کی ماں)، لہٰذا اگر کسی شخص کی بیوی کی سوتیلی ماں ہو (یعنی بیوی کے والد کی وہ زوجہ جو بیوی کی حقیقی ماں نہ ہو) تو وہ شرعاً حقیقی ساس کے حکم میں داخل نہیں، اس بنا پر بیوی کے نکاح میں رہتے ہوئے سوتیلی ساس سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے۔
نیز دونوں عورتوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا بھی جائز ہے، کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایسا کوئی رشتہ نہیں جو جمع بین الاختین یا حرمتِ مصاہرت کے تحت آتا ہو۔
*الدرالمختار:(38/3،ط: دارالفكر)*
(و) حرم (الجمع) بين المحارم (نكاحا) أي عقدا صحيحا (وعدة ولو من طلاق بائن، و) حرم الجمع (وطء بملك يمين بين امرأتين أيتهما فرضت ذكرا لم تحل للأخرى).
*وأيضاً:(39/3،ط: دارالفكر)*
فجاز الجمع بين امرأة وبنت زوجها) أو امرأة ابنها أو أمة ثم سيدتها لأنه لو فرضت المرأة أو امرأة الابن أو السيدة ذكرا لم يحرم بخلاف عكسه.
*بدائع الصنائع:(363/2،ط:دار الكتب العلمية)*
ويجوز الجمع بين امرأة وبنت زوج كان لها من قبل، أو بين امرأة وزوجة كانت لأبيها وهما واحد؛ لأنه لا رحم بينهما فلم يوجد الجمع بين ذواتي رحم.