کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک جاننے والے نے دو عورتوں اور ایک مرد کو گواہ بنا کر مذاق میں ایک عورت سے اپنا نکاح پڑھا ، ان کے اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیونکہ جہاں تک میرا علم ہے تونکاح اور طلاق مذاق میں بھی واقع ہوتے ہیں ، اورانہوں نے تو دو عورتوں اور ایک مرد کو گواہ بھی بنالیا ہے ، تو کیا ان کا نکا ح واقع ہوگیا ؟
واضح رہے کہ نکاح دوگواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کرنے سے منعقد ہوجاتا ہے ، چاہے دونوں گواہ مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں اور چاہے ایجاب وقبول حقیقتا ہو،یا مذاق میں کہے گئے ہوں ۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں ان کا نکاح شرعا منعقد ہوگیا ہے اب یہ دونوں باہمی رضامندی سے مہر طے کرلیں اور میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہیں ۔
سنن الترمذي: (3/ 482، رقم الحديث : 1184، ط: دار الغرب الإسلامي )
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة "
الدرالمختار: (3/ 21، ط: دارالفكر)
(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا).
الهندية: (1/ 267، ط: دارالفكر)
ولا يشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين، كذا في الهداية.
تبيين الحقائق : (2/ 99، ط: دار الكتاب الإسلامي )
ولا يشترط وصف الذكورة عندنا حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين.