نکاح

دو سوتیلی بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1865
معاملات / احکام نکاح / نکاح

دو سوتیلی بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا حکم

کیا کوئی شخص اپنی بیوی کی موجودگی میں اس کی سوتیلی بہن یعنی باپ شریک بہن سے نکاح کر سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جس طرح دو سگی بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا حرام ہے، اسی طرح دو سوتیلی یعنی ماں شریک یا باپ شریک بہنوں کو بھی بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔

حوالہ جات

القرآن:(نساء:4/23)*
وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا.

*تفسير ابن جزي=التسهيل لعلوم التنزيل:(1/ 186،ط: شركة دار الأرقم بن أبي الأرقم)*
وأن تجمعوا بين الأختين يقتضي تحريم الجمع ‌بين ‌الأختين ‌سواء ‌كانتا ‌شقيقتين أو لأب أو لأم وذلك في الزوجتين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
32
فتوی نمبر 1865کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --