نکاح

سوتیلی ساس سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
1822
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سوتیلی ساس سے نکاح کا حکم

اگر کسی شخص کی بیوی فوت ہو جائے تو کیا وہ اپنی بیوی کی سوتیلی ماں (سوتیلی ساس) سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں داماد کا اپنے سسر کے انتقال کے بعد اپنی سوتیلی ساس(بیوی کی سوتیلی والدہ) سے شادی کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ان کے درمیان رضاعت، مصاہرت یا کوئی اور شرعی وجہِ حرمت موجود نہ ہو۔

حوالہ جات

*الشامية:(31/3،ط: دارالفكر)*
قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب. اهـ.

*البحر الرائق:(101/3،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
ولا تحرم بنت زوج الام ولا امه ولا ام زوجة الاب ولا بنتها ولا ام زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الرابط.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
39
فتوی نمبر 1822کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --