نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

فتوی نمبر :
1777
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

ایک 16 سالہ لڑکے اور ایک لڑکی نے آپس میں شادی (نکاح) پر رضامندی ظاہر کی، مگر اپنے گھر والوں کی اجازت یا علم کے بغیر۔ انہوں نے اپنے دو دوستوں کو گواہ بنایا، اور ایک تیسرے دوست کو قاضی مقرر کر دیا (جو نکاح پڑھاتا ہے)۔ اُس "قاضی" نے صرف دونوں کے نام اور ان کے والدوں کے نام پوچھے، اور پھر دونوں سے ایجاب و قبول (رضامندی) لیا۔اب سوال یہ ہے: کیا ایسا نکاح درست (صحیح) ہے؟اگر ہاں، تو دلیل کے ساتھ وضاحت کریں۔اور اگر نہیں، تو کیوں نہیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر لڑکا اور لڑکی نسب، مال، دین داری، شرافت اور پیشے میں برابر ہوں تو وہ ’’کفو ‘‘کہلاتے ہیں اور ان کا باہمی رضامندی سے نکاح جائز ہے، اگر برابری نہ ہو اور ولی کی اجازت کے بغیر نکاح ہو تو ولی کو بذریعہ عدالت اولاد ہونے سے پہلے پہلے نکاح فسخ کروانے کا حق حاصل ہے، البتہ اگر ولی راضی ہو تو نکاح کرنا شرعاً جائز ہے ۔

حوالہ جات

*القران الکریم:(232/1)*
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۭ ذٰلِكَ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَاَطْهَرُ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ

*بدائع الصنائع:(247/2،ط:دارالکتب العلمیة)*
الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض.

*المحيط البرهاني:(24/3,ط:دار الكتب الاسلامي)*
ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة ، وهو قول أبي يوسف ﵀ آخرًا، وقول محمد آخرًا أيضًا لما يأتي بيانه بعد هذا إن شاء الله، حتى إن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار وله إيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض؛ لأنها ألحقت الشين بالأولياء بنسبة من لا يكافئهم إليهم بالصمدية فكان لهم أن يدفعوا هذا الشين عن أنفسهم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
38
فتوی نمبر 1777کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --