نکاح

غائب شوہر کی وفات کی خبر سن کر نکاح کرنے کے بعد خبر کے غلط نکلنے کی صورت میں نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
1575
معاملات / احکام نکاح / نکاح

غائب شوہر کی وفات کی خبر سن کر نکاح کرنے کے بعد خبر کے غلط نکلنے کی صورت میں نکاح کا حکم

اگر کسی عورت کا شوہر دوسرے ملک گیا ہو اور اس کی وفات کی جھوٹی خبر ملنے پر وہ عدت کے بعد دوسرا نکاح کر لے، پھر وہ شوہر زندہ واپس آ جائے تو وہ عورت کس کی بیوی شمار ہوگی؟
پہلے شوہر کی یا دوسرے شوہر کی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اس عورت کا نکاح پہلے شوہر سے بدستور برقرار ہے اور دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح باطل ہے، اس لیے عورت کو چاہیے کہ فوراً دوسرے شوہر سے جدا ہو جائے اور اگر دوسرے نکاح کی رخصتی بھی ہو گئی تھی تو پہلے شوہر کے آجانے کے بعد اس کے لیے بیوی کے ساتھ صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں، جب تک وہ دوسرے شوہر کی عدت پوری نہ کرلے۔

حوالہ جات

*الهندية:(280/1،ط: دارالفكر)*
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج.

*المبسوط للسرخسي :(11/ 37،ط:دار المعرفة)*
«وأما ‌تخييره ‌إياه ‌بين ‌أن ‌يردها ‌عليه ‌وبين ‌المهر فهو بناء على مذهب عمر رضي الله عنه في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت، وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حيا إنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضا؛ لأنه تبين أنها تزوجت، وهي منكوحة ومنكوحة الغير ليست من المحللات بل هي من المحرمات في حق سائر الناس.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 1575کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --