کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسنون نکاح کا کیا طریقہ ہے ؟
واضح رہے کہ جس شخص کا نکاح کا ارادہ ہو اس کو چاہیے کہ کسی دیندار گھرانے کی لڑکی کا انتخاب کریں ، اور اگر بات طے ہوجائے تو مسجد میں آداب ِ مسجد کا لحاظ رکھتے ہوئے عقد نکاح کا پروگرام منعقد کیاجائے ،اور اپنی وسعت کے مطابق مہر مقرر کیا جائے ،اور بہتر یہ ہے کہ شب زفاف سے پہلے مہر ادا کردیا جائے ، نیزشب زفاف کے بعد اپنی وسعت کے مطابق ولیمہ منعقد کیا جائے ، اورفضول رسموں سے اجتناب کیا جائے ۔
القرأن الكريم : [الروم:/30 21]
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنۡ خَلَقَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا لِّتَسۡكُنُوٓاْ إِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُم مَّوَدَّةٗ وَرَحۡمَةًۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ .
صحيح البخاري:(7/ 7، رقم الحديث : 5090،ط: دار طوق النجاة )
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: تنكح المرأة
لأربع: لمالها، ولحسبها، وجمالها، ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك.
مسند أحمد:(41/ 75 ،رقم الحدیث : 24529،ط: مؤسسة الرسالة )
عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤونة "۔