کسی نے اپنا مسلئہ بھیجا ہے کہ لڑکے کا نام شاہ ہے اور لڑکی کا نام نور، لڑکے نے لڑکی سے وعدہ کیا تھا کہ تجھ سے محبت ہے، تجھے کسی حال میں نہی گنوا سکتا، تجھ سے شادی کروں گا، چاہے جو ہو جائے ، اس وعدے کے دوران لڑکی کو اس کا ذاتی نام گھر دینے کا بھی وعدہ تھا اور ساتھ میں اذان کے وقت قسم بھی کھائی تھی کہ جو بھی مکرا وہ کافر ہوگا، پھر لڑکا اپنی فیملی کی خاطر مکر گیا اور لڑکی کو صاف جواب دیا کے تو اپنا دیکھ لے، فیملی کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا، لڑکی کی طرف سے کوئی گلے شکوے نہیں تھے اور اس بات پے راضی تھی کہ خدا نے جو فیصلہ کیا اس کی مصلحت ہوگی، بنا بدعا دیے خاموش ہو گئی، اس کے بعد اس لڑکے کی بیوی کسی کے ساتھ 4 بچوں کو چھوڑ کر بھاگ گئی، اب وہ شخص دوبارہ لوٹ کے آتا ہے اور معافی مانگتا ہے اور اپنی غلطی سدھارنا چاہتا ہے، کیا ایسی صورت میں لڑکی کو اس کی بات کا اعتبار کرنا چاہیے؟ اور دوسری بات اس لڑکے نے جو وعدہ خلافی کی قسم اٹھائی تھی،اب اس صورت میں لڑکا کافر کہلائے گا یا نہیں؟ اس لڑکے اور لڑکی پر شریعت کے اعتبار سے کیا حکم لاگو ہوتا ہے ؟
ان دونوں کی راہنمائی فرمائیں۔
نکاح کا وعدہ شرعاً نکاح نہیں ہوتا، وعدہ پورا کرنا اخلاقاً اور دیانتاً لازم ہے، وعدہ خلافی گناہ ہے، خصوصاً جب دل آزاری اور دھوکہ پایا جائے،یہ کہنا کہ ”جو مکرے وہ کافر ہوگا“ شرعاً ناجائز ہے،تاہم وعدہ توڑنے سے آدمی کافر نہیں ہوتا، البتہ ایسی قسم کھانا گناہ ہے؛ اس پر سچی توبہ واستغفار لازم ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں لڑکی پر شرعاً لازم نہیں کہ وہ دوبارہ اس شخص پر اعتماد کرے یا نکاح قبول کرے، اسے اختیار ہے کہ حالات، سابقہ وعدہ خلافی اور اپنےمستقبل کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے۔
لڑکے پر لازم ہے کہ وہ وعدہ خلافی، غلط قسم اور سابقہ طرزِ عمل پر صدقِ دل سے توبہ کرے، آئندہ کے لیے دیانت و ذمہ داری کا پختہ عزم کرے اور اگر نکاح کا ارادہ ہو تو شرعی طریقے سے، ولی کی رضامندی، مہر، گواہوں اور واضح ذمہ داریوں کے ساتھ قدم بڑھائے۔
*القرآن الکریم:( الاسراء:34/17)*
وَأَوْفُوْا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـُٔولًا .
*مختصر القدوري:(145/1،ط:دار الكتب العلمية)*
النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي أو يعبر بأحدهما عن الماضي وبالآخر عن المستقبل مثل أن يقول: زوجتي فيقول زوجتك.
*الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(6508/9،ط:دار الفكر)*
بينا أن الخطبة ليست زواجًا، وإنما هي مجرد وعد بالزواج، فلا يترتب عليها شيء من أحكام الزواج.
*الدرالمختار:(717/3،ط: دارالفكر)*
(و) القسم أيضا بقوله (إن فعل كذا فهو) يهودي أو نصراني أو فاشهدوا علي بالنصرانية أو شريك للكفار أو (كافر) فيكفر بحنثه لو في المستقبل، أما الماضي عالما بخلافه فغموس.
واختلف في كفره (و) الأصح أن الحالف (لم يكفر) سواء (علقه بماض أو آت) إن كان عنده في اعتقاده أنه (يمين وإن كان) جاهلا.
*الشامية:(718/3،ط: دارالفكر)*
(قوله فيكفر بحنثه) أي تلزمه الكفارة إذا حنث إلحاقا له بتحريم الحلال، لأنه لما جعل الشرط علما على الكفر وقد اعتقده واجب الامتناع وأمكن القول بوجوبه لغيره جعلناه يمينا نهر (قوله أما الماضي) كإن كنت فعلت كذا فهو كافر أو يهودي ومثلها الحال (قوله عالما بخلافه) أما إذا كان ظانا صحته فلغو ح (قوله فغموس) لا كفارة فيها إلا التوبة فتح (قوله واختلف في كفره) أي إذا كان كاذبا (قوله والأصح إلخ) وقيل لا يكفر؛ وقيل يكفر لأنه تنجيز معنى لأنه لما علقه بأمر كائن فكأنه قال ابتداء هو كافر.