ایک لڑکے نے اپنی چچازاد بہن سے شادی کی ، شادی کےدوسال بعد اس کی ساس نے کہا کہ میں نے بچپن میں اسے(اپنی بہو) کو دودھ پلایا تھا ، جس پر لڑکے نے اپنی بیوی کو گھر سے نکال دیا ، اب وہ لڑکی کیا کرے ، نیز انہوں نے جو سال گزارے تو ان کے درمیان نکاح کا رشتہ قائم تھا یا نہیں ؟
واضح رہے کہ ساس کے پاس اس کے دعوی پر دو قابل اعتماد مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں بطور گواہ موجود ہوں ، تب تو ساس کی بات معتبر مانی جائے گی اور یہ دونوں ( میاں بیوی )رضاعی بہن بھائی تصور کیے جائیں گے ، لیکن اگر ساس کے دعوی پر کوئی گواہ موجود نہ ہو تو محض دعوی سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی ،یہ دونوں بدستور میاں بیوی رہیں گے ، البتہ اس صورت میں بھی میاں بیوی کاعلیحدگی اختیار کرنا بہتر ہے ۔
الدرالمختار : (3/ 224، ط: دارالفكر)
(و) الرضاع (حجته حجة المال) وهي شهادة عدلين أو عدل وعدلتان، لكن لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي لتضمنها حق العبد (وهل يتوقف ثبوته على دعوى المرأة؛ الظاهر لا) لتضمنها حرمة الفرج وهي من حقوقه تعالى (كما في الشهادة بطلاقها) . ولو شهد عندها عدلان على الرضاع بينهما أو طلاقها ثلاثا وهو يجحد ثم ماتا أو غابا قبل الشهادة عند القاضي لا يسعها المقام معه ولا قتله به يفتى، ولا التزوج بآخر. وقيل لها التزوج ديانة شرح وهبانية.
الهندية: (1/ 343، ط: دارالفكر)
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة.
فتح الباري لابن حجر (5/ 269 ، ط: المكتبة السلفية )
وعن أبي حنيفة لا تقبل في الرضاع شهادة النساء المتمحضات.