کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد امین نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی سے کہا ” چل دفع ہوجا “ اور طلاق کی نیت بھی کی ، بعد میں نادم ہو کر معافی بھی مانگی ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ از روئے شرع اس کی طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟
پوچھی گئی صورت میں ” چل دفع ہوجا “ کے الفاظ سے طلا ق کی نیت کے ساتھ ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے لہذا اب اگر شوہر اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھنا چاہے تو نئے مہر کے ساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں نئے سرے سے نکاح کرنا ضروری ہے ۔
الدرالمختار : (3/ 296، ط: دارالفكر)
الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب .
النهر الفائق: (2/ 356، ط: دار الكتب العلمية )
(لا تطلق بها) أي: بالكناية يعني قضاء (إلا بالنية) أي: نية الطلاق (أو دلالة الحال) / وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب .
البحر الرائق: (3/ 322، ط: دارالكتاب الاسلامي )
(قوله: لا تطلق بها إلا بنية أو دلالة الحال) أي لا تطلق بالكنايات قضاء إلا بإحدى هذين لأنها غير موضوعة للطلاق بل موضوعة لما هو أعم منه ومن حكمه لما سيأتي أن ما عدا الثلاث منها لم يرد بها الطلاق أصلا بل ما هو حكمه من البينونة من النكاح، والمراد بدلالة الحال الحالة الظاهرة المفيدة لمقصوده ومنها تقدم ذكر الطلاق كما في المحيط .