ایک میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہوا اور بیوی شوہر کے گھر سے نکل کر چلی گئی۔ اس موقع پر شوہر نے اپنی بیوی سے وائس میسج میں یہ الفاظ کہے: شوہر کے الفاظ: (پہلا وائس میسج) "لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ! میں سب کچھ توڑ کے آؤں گا اور سب ادھر ختم ہوگا۔ میں وہاں اتنا تماشہ کروں گا کہ تم ساری زندگی یاد رکھو گی۔ ابھی کے ابھی گاڑی والے کو موڑو، نہیں جانا، نہیں جانا! میں کلمہ پڑھ کے تم سے کہہ رہا ہوں، اگر تم وہاں گئیں تو سمجھو میں نے تم سے تعلق ختم کر دیا، سمجھو میں نے تین الفاظ بول دیے۔ اگر تم وہاں اپنے گھر پہنچیں اور واپس نہیں آئیں۔" (اس کے متصل بعد دوسرا وائس میسج) "بس جہاں پر بھی ہو، وہاں سامان رکھ کے آنا، کیونکہ میں تمہیں دوبارہ اُدھر لے کر جاؤں گا۔ مجھے کنفرم ہونا چاہیے کہ تم گئی کہاں تھی۔ یہی چیز تمہیں بچا سکتی ہے، مرنے سے بھی اور مجھ سے الگ ہونے سے بھی۔ نہیں تو سب ختم ہو جائے گا، مجھے یہ ثبوت چاہیے کہ تم ابھی گئی کہاں تھی!" پھر آدھے گھنٹے کے بعد وائس میسج میں یوں کہا: "سمجھ لے میں نے تجھے تین الفاظ بول دیے ہیں، اگر تو اپنے گھر پہنچی اور واپس نہیں آئی تو یاد رکھنا تجھے کبھی معاف نہیں کروں گا اور نہ ہی دوبارہ اپنی زندگی میں آنے دوں گا۔" (اور اس کے متصل بعد یہ وائس میسج کیا) "میں اپنے بچے کے سر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا دل تم سے بالکل ٹوٹ چکا ہے۔ میں صرف تم سے بات کرنا چاہتا ہوں، تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ میں مڑ کر دوبارہ تمہاری طرف کبھی نہیں آؤں گا، میرے واپس لوٹنے کا اب کوئی راستہ ہی نہیں بچا۔" (اس کے بعد یہ وائس میسج کیا) بھائی وہ مجھے نہیں پتہ تم کہاں کس کے ساتھ ہو، کون سے لڑکے کے ساتھ ہو۔ میرا ابھی ضمیر گوارا نہیں کر رہا، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ، میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا۔ مجھے تین الفاظ کہنے ہیں۔" "کال پہ بولوں گا، ابھی کال پہ بولوں گا اور یہاں سے بول کے میں سیدھا جا رہا ہوں، ٹھیک ہے؟ کال ریسیو کرو، الفاظ سنو، میں جا رہا ہوں۔" واقعہ یہ ہے کہ شوہر نے درحقیقت والدین کے گھر جانے پر طلاق کا کہا ہے اور اس جھگڑے کے کچھ دن بعد تک لڑکی کبھی اپنی بہن کے گھر، کبھی چاچو وغیرہ کے گھر گئی، والدین کے گھر نہیں گئی، اب اس ساری صورت میں طلاق کا کیا حکم ہے؟
جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ الفاظ کہ "میرا تم سے تعلق ختم ہے "طلاق بائن کے الفاظ ہیں، اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے، جس میں شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہتا ہے، اس کے بعد اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ہوگا ۔ قاعدہ یہ ہے کہ صریح طلاق کا کنائی طلاق سے الحاق ہوتا ہے، جبکہ کنایہ بائن کا کنایہ بائن کے ساتھ الحاق نہیں ہوتا۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ شوہر نے بیوی کو یہ کہا کہ اگر تم وہاں گئیں تو سمجھو میں نے تم سے تعلق ختم کر دیا تو شوہر نے طلاقِ بائن کو شرط کے ساتھ معلق کیا،چونکہ بیوی واپس نہیں آئی تو شرط پائے جانے کی وجہ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے، جس سے میاں،بیوی دونوں کا نکاح ختم ہوچکاہے، شوہر کے مزید دیگر کنائی الفاظ استعمال کرنے سے کوئی طلاقِ واقع نہیں ہوئی، لہذا اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ تاہم شوہر کے پاس آئندہ دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔
الهندية:(1/ 420،ط:دارالفکر) وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق. الهندية: (1/ 374، ط: دارالفكر) (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام ... ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية. فتح القدير:(4/ 116،ط:دارالفکر) «وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط». الدرالمختار: (3/ 352، ط: دارالفكر) كأنت طالق لو دخلت الدار تعلق بدخولها، ومن نحو من دخل منكن الدار فهي طالق.