ایک آدمی نے اپنی بیوی کو بہت مارا، اس کے بعد اس نے کہا کہ اگر آئندہ میں نے اپنی بیوی کو مارا تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں تو اس سے کونسی طلاق واقع ہوگی اور اس کا کیا حکم ہے ؟
جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ الفاظ کہ "میرا تم سے تعلق ختم ہے "طلاق بائن کے الفاظ ہیں، اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے، جس میں شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہتا ہے، اس کے بعد اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ہوگا ۔ پوچھی گئی صورت میں طلاقِ بائن کو بیوی کو مارنے کے ساتھ معلق کیا ہے، لہذا یہ شخص بیوی کو جب بھی مارے گا تو طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی ۔
الهندية:(1/ 420،ط:دارالفکر) وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق. الهندية: (1/ 374، ط: دارالفكر) (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام ... ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية. فتح القدير:(4/ 116،ط:دارالفکر) «وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط». الدرالمختار: (3/ 352، ط: دارالفكر) كأنت طالق لو دخلت الدار تعلق بدخولها، ومن نحو من دخل منكن الدار فهي طالق.