مجھے طلاق کے ایک مسئلے کے بارے میں آپ سے رہنمائی چاہیے۔میں نے غصے میں اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے تھے:“ستمبر میں اگر تم نے جاب نہ چھوڑی تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔”یہ الفاظ میں نے دھمکی کے طور پر کہے تھے، میرے ذہن میں طلاق کا ارادہ بھی تھا، لیکن مجھے اس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہو سکتی ہے، اب اگر بیوی نے ستمبر میں جاب نہیں چھوڑی تو حنفی فقہ کے مطابق کیا اس جملے سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ براہِ کرم اس بارے میں واضح حکم بتا دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح رہے کہ آپ کا یہ کہنا: "ستمبر میں اگر تم نے جاب نہ چھوڑی تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا" طلاق کی دھمکی کے حکم میں ہے اور محض طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
فتح القدير:(7/4،ط:دارالفکر) ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال. الشامية:(669/3، ط: دارالفكر) أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا. الهندية:(384/1،ط: دارالفکر) في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال.