مفتی صاحب ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کی عدت گزر گئی، بعد ازاں وہ عورت انتقال کر گئی اور اس شخص نے بھی کوئی دوسری شادی نہیں کی، اب یہ شخص اس عورت کے نام پر صدقہ خیرات وغیرہ بھی کرتا ہے، اس کی قبر پر بھی جاتا ہے، البتہ اس کا پوچھنا یہ ہے کہ یہ عورت آخرت میں میری بیوی ہوگی یا کسی اور کی؟ اور میں جو خیرات و صدقات اس کے نام کرتا ہوں وہ اس تک پہنچتی بھی ہے کہ نہیں؟
جنت میں ایمان والی عورت اپنے جنتی شوہر کے ساتھ نہایت عزت، خوشی کی زندگی گزارے گی، البتہ مطلقہ عورت جنت میں کس کے ساتھ ہوگی، اس بارے میں کوئی صریح اور مستند روایت موجود نہیں، اس لیے اس معاملے کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ مسلمان مرد یا عورت کے لیے دعا کرنا، ایصالِ ثواب کرنا یا اس کی طرف سے صدقہ کرنا شرعاً جائز ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ غیر محرم ہو یا محرم، کیونکہ اسلام نے عام طور پر تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرنے کی ترغیب دی ہے، لہذا آپ کا اپنی مطلقہ بیوی کے ایصال ثواب کے لیے صدقہ کرنا جائز ہے۔
*الشامية: (2/ 243،ط:دارالفکر)* صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة. *البحر الرائق:(63/3،ط:دار الكتاب الإسلامي)* فإن من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع.