مفتی صاحب ! غیر صاحب نصاب کا قربانی کے لیے لایا ہوا جانور گم ہوجائے تو اس پر دوسرا جانور خریدنا لازم ہوگا ؟
قربانی کےدنوں میں قربانی صرف اسی شخص پر واجب ہے، جو شرعاً صاحبِ نصاب ہو، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر مال، نقدی یا ضرورت سے زائد چیزوں کا مالک ہو، جو شخص صاحب نصاب نہ ہو، اس پر قربانی واجب نہیں، اسی وجہ سے اگر کوئی غریب شخص قربانی کی نیت سے جانور خرید لائے اور قربانی سے پہلے وہ جانور مر جائے یا گم ہو جائے تو اس پر دوسرا جانور لاکر قربانی کرنا واجب نہ ہوگا، البتہ اگر کوئی صاحبِ نصاب شخص جانور لے آئے اور وہ جانور مرجائے یا گم ہو جائے تو اس پر دوسرا جانور لانا لازم ہوگا۔
*تكملة فتح القدير:(9/ 516،ط:دار الفكر)* وعن هذا الأصل قالوا: إذا ماتت المشتراة للتضحية؛ على الموسر مكانها أخرى ولا شيء على الفقير. *الهداية في شرح بداية المبتدي:(4/ 359،ط:دار احياء التراث العربي)* وعن هذا الأصل قالوا: إذا ماتت المشتراة للتضحية؛ على الموسر مكانها أخرى ولا شيء على الفقير. *مجمع الأنهر:(2/ 520،ط:دار الطباعة العامرة* ) وعن هذا الأصل قالوا إذا ماتت المشتراة للتضحية على موسر تجب مكانها أخرى ولا شيء على الفقير.