نکاح

زبردستی نكاح كرنا

فتوی نمبر :
570
معاملات / احکام نکاح / نکاح

زبردستی نكاح كرنا

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی لڑکی یا لڑکے کا نکاح اس کے مرضی کے خلاف اس کے گھر والے زبردستی کرنا چاہتے ہیں تویہ اسلام میں صحیح ہے یا غلط ؟
براہ کرم ! رہنمائی فرمائیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بالغ لڑکے اور لڑکی کا نکاح ان کے گھر والے ان کے مرضی کے خلاف زبردستی نہیں کرسکتے ، بالغ ہونے کے بعد وہ اپنے نفس کے خود ولی اور مختار ہیں ، لیکن اگر والدین مصلحت کی وجہ سے شادی کرنا چاہتے ہوں اور وہ راضی نہ ہو ں توان کو راضی کرکے شادی کرانی چاہیے اور بچوں کوبھی والدین کی بات ماننی چاہیے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار:(3/ 58،ط:دارالفکر)
(‌ولا ‌تجبر ‌البالغة ‌البكر ‌على ‌النكاح) ‌لانقطاع ‌الولاية ‌بالبلوغ»

الهندية:(1/ 287،ط: دارالفكر)
لا يجوز نكاح أحد ‌على ‌بالغة ‌صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا.

البناية شرح الهداية:(5/ 80،ط: دارالكتب العلميه)
ولا يجوز للولي‌‌ ‌إجبار ‌البكر البالغة على النكاح

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
69
فتوی نمبر 570کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --