السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا ہم چار بھائی اور چھ بہنیں ہیں، ہمارے والد صاحب کی جائیداد کی کل مالیت 47 لاکھ روپے ہے، اسے ہم آپس میں کیسے تقسیم کریں؟
برائے مہربانی شریعت کی رو سے مسئلہ بتا دیں ۔
جزاک اللہ
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین اور تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال کے 14 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ دیا جائے گا، اس تقسیم کی رو سے 47 لاکھ روپے میں سے ہر ایک بیٹی کو تین لاکھ پینتیس ہزار سات سو چودہ (335714)روپے، جبکہ ہر ایک بیٹے کو چھ لاکھ اکہتر ہزار چار سو اٹھائیس (671428) روپے دیے جائیں گے ۔
*القرأن الكريم :(النساء:/4 11)*
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ .
*السراجي:(ص:5،ط:مكتبة البشرى)*
قال علماؤنا له : تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير، ثم تقضى ديونه من جميع بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب السنة وإجماع الأمة.
*الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)*
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.