کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر بہنیں میراث میں بھائیوں سے کہہ دیں کہ ہم میراث نہیں لیتی ، ہماری طرف سے معاف ہے ، یا یہ کہہ دیں کہ یہ میراث آپ لوگوں کا ہوگیا ۔ تو آیا اس طرح کہنے سے وہ میراث سے محروم ہوجائیں گی یا نہیں ؟
واضح رہے کہ میراث حق اضطراری ہے ، جو معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا ،لہذا بہنوں کا اس طرح کہنے سے وہ میراث سے محروم نہیں ہوں گی ، البتہ مال میراث پر قبضہ کرکے پھر اگر وہ کسی کو دینا چاہیں تو دے سکتی ہیں ۔
تكملة الشامية : (8/ 208، ط: دارالفكر) ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ. ايضا :(8/ 116، ط: دارالفكر) الارث جبري لا يسقط بالاسقاط. العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (2/ 26، ط:دارالمعرفة ) الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره فراجعه إن شئت. الهندية: (4/ 384، ط: دارالفكر) قال رضي الله عنه: وهبة حصته من العين لوارث أو غيره تصح فيما لا يحتمل القسمة ولا تصح فيما يحتملها، كذا في القنية.