کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے شراب کی نشے کی حالت میں گھر والوں کے ساتھ جھگڑتے ہوئے اپنی بیوی کو تین چار مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہا ، اب مسئلہ یہ ہے کہ اس عورت کو طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں ؟اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو کون سی طلاق واقع ہوئی؟ اور ابھی یہ عورت اس گھر میں رہ سکتی ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ شراب کے نشے میں طلاق دینے سے احناف کے ہاں طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں شوہر نے بیوی کو شراب کے نشے میں جو تین طلاقیں دی ہیں وہ تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہے اور اب عورت کا اس گھر میں بحیثیت بیوی رہنا جائز نہیں ۔
الهندية: (1/ 353، ط: دارالفكر) وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط. الهداية : (1/ 221، ط: دار احياء التراث العربي) وطلاق البدعة أن يطلقها ثلاثا بكلمة واحدة أو ثلاثا في طهر واحد فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا " .