نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
1776
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

مولوی صاحب کے علاوہ دو اور لڑکے موجود تھے بطور گواہ مولوی نے پہلے بتایا کہ لڑکی کا حق مہریہ ۲ کروڑ ہے پھر لڑکے سے پوچھا تمہیں اس مہر پر کوئی اعتراض تو نہیں لڑکے نے کہا نہیں پھر جو دو لڑکے موجود تھےان میں سے ایک سےپوچھا تم ولی ہو کیا میں اس لڑکی کا نکاح کروا دوں تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں اس نے کہا: کرا دو مجھے اعتراض نہیں جو لڑکی کا ولی تھاوہ لڑکی کا محرم نہیں تھا پھر لڑکی سے پوچھا: "کیا میں تمہارا نکاح پڑھا دوں لڑکی نے کہا: جی
اس نے صرف ایک حرف جی کہالیکن اس کا ارادہ واضح تھا زیادہ نہیں بولی کیونکہ لڑکوں کی موجودگی تھی اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں بولیپھر لڑکے سے پوچھا: لڑکی کا نام لے کر، کیا تمہیں اس سے نکاح قبول ہے تین بار پوچھا، لڑکے نے تین بار کہا:قبول ہے۔پھر مولوی صاحب نے دعا پڑھائی اور کہا: مبارک ہو نکاح ہو گیا ہے
سوال یہ ہے کہ حنفی مسلک کے مطابق نکاح منعقد ہو گیا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عاقلہ،بالغہ لڑکی اگر اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کر لے تو نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے،بشرطیکہ نکاح شرعی اصولوں کے مطابق ہو تاہم والدین کی رضا مندی کے بغیر نکاح کرنا نہ ہی شرعاً، اور نہ ہی اخلاقاً ومعاشرتاً پسندیدہ ہے، بہتر یہی ہے کہ نکاح جیسے اہم معاملے میں والدین کو اعتماد میں لیا جائے۔
البتہ اگر ولی کی اجازت کے بغیر کفو ( لڑکا اور لڑکی نسب، مال، دین داری، شرافت اور پیشے میں برابرہوں) میں نکاح کیا ہے تو یہ نکاح صحیح ہے اولیاء کو اعتراض کا حق نہیں ،اگر برابری نہ ہو تو ولی کو بذریعہ عدالت اولاد ہونے سے پہلے پہلے نکاح فسخ کروانے کا حق حاصل ہے، البتہ اگر ولی راضی ہو تو نکاح کرنا شرعاً جائز ہے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار:(183/1،ط: دارالفکر
فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والاصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه، وما لا فلا (وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الاصح ،خانية
وخرج ذوو الارحام والام، وللقاضي (الاعتراض في غير الكفء.

الھندیة:(292/1،ط: دار الفكر)
ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى وهو قول أبي يوسف رحمه الله تعالى آخرا وقول محمدرحمه الله تعالى آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياءحق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط، كذا في فتاوى قاضي خان في فصل شرائط النكاح وفي البزازية ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكرا كانت أو ثيبا على قول الإمام الأعظم وهذا إذا كان لها ولي فإن لم يكن صح النكاح اتفاقا.
المحيط البرهاني:(24/3,ط:دار الكتب الاسلامي)
ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة ، وهو قول أبي يوسف آخرًا، وقول محمد آخرًا أيضًا لما يأتي بيانه بعد هذا إن شاء الله، حتى إن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار وله إيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض؛ لأنها ألحقت الشين بالأولياء بنسبة من لا يكافئهم إليهم بالصمدية فكان لهم أن يدفعوا هذا الشين عن أنفسهم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1776کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --