اگر کوئی شادی شدہ آدمی دوسری شادی کرنا چاہے تو کیا اس کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے؟
واضح رہے کہ دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں، لیکن شادی کے بعد دونوں بیویوں کے درمیان عدل و مساوات قائم رکھنا ضروری ہے، البتہ بہتر ہے کہ دوسری شادی سے پہلے پہلی بیوی کی ذہن سازی کر کے اسے راضی کیا جائے، تاکہ دوسری بیوی کے آنے پر پہلی بیوی کی طرف سے ناخوشگوار حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
*القرأن:(النسا: 4 :3)*
فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُواْ.
*سنن أبي داود:(3/ 469،رقم الحديث:2133،ط:دار الرسالة العالمية)*
حدثنا أبو الوليد الطيالسي، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن النضر ابن أنس، عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من كانت له امرأتان، فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل.