کیا مرد کے لیے کسی عورت کو نکاح کا پیغام میسج کے ذریعے دیتے ہوئے دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ نکاح کا پیغام جس طرح زبانی دیا جاسکتا ہے ویسے ہی خط وکتابت اور آج کے ڈیجیٹل دور میں میسج کے ذریعے بھی دیا جاسکتا ہے ، اور پیغام نکاح کے لیے گواہوں کاہونا ضروری نہیں البتہ اگر لڑکی اس میسج کو دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے پڑھ کر نکاح کا پیغام قبول کرتی ہے، تو اس سے نکاح منعقد ہوجائے گا ۔
الشامية :(3/ 13، ط: دارالفكر)
أما الكتاب فصحيح بلا إشهاد، وإنما الإشهاد لتمكن المرأة من إثبات الكتاب إذا جحده الزوج كما في الفتح عن مبسوط شيخ الإسلام.
البحر الرائق : (3/ 95، ط: دارالكتاب الاسلامي )
وأفاد المصنف أن انعقاد النكاح بكتاب أحدهما يشترط فيه سماع الشاهدين قراءة الكتاب مع قبول الآخر كما قدمناه.
الهندية: (1/ 269، ط: دارالفكر)
ولو قالت: إن فلانا كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني قد زوجت نفسي منه صح النكاح؛ لأن الشهود سمعوا كلامهما بإيجاب العقد وسمعوا كلام الخاطب بإسماعها إياهم هكذا في الذخيرة.