نکاح

والدین کے رضامندی کے بغیر نکاح کرنا

فتوی نمبر :
1185
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والدین کے رضامندی کے بغیر نکاح کرنا

سوال: میں اپنے والدکا اکلوتا بیٹاہوں میری ایک بہن ہے جو شادی شدہ ہے میری امی کا ۲۰۰۶ میں انتقال ہوگیا ہے میری سگائی میری چچا کی بیٹی سے ہوئی تھی میری امی کے وفات کے بعد میرے ابو نے ایک اور لڑکی سے میری سگائی کردی مگرمیں نے نہیں مانا اس کے بعد آٹھ سال ہوگئے میرے ابو مجھ سے ناراض ہے مگرمیں اپنا چچاکی بیٹی سے شادی پہ اڑا ہواہوں اس کے علاوہ میں نے والد صاحب سے کوئی بات نہیں کی نہ ہی ان کی کوئی بات ٹالی اورنہ ہی کوئی گستاخی کی اور نہ ہی کبھی اونچی آوازمیں بات کی ہے بس والد صاحب اس کی وجہ سے ناراض ہیں ۔
اسلامی رو سے مجھے کیا کرناچاہیے میری چچاکی بیٹی عالمہ ہے نمازی اورپرہیزگاری ہے ابو کی چچا سے کوئی ناراضگی ہوئی تھی اس وجہ سے وہاں انکار کیا ہے رشتہ سے
براہ کرم !میری رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ منگنی، وعدۂ نکاح ہے اور بلاوجہ وعدہ توڑناناپسندیدہ عمل ہے،لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کے والد کو بغیر شرعی عذر منگنی نہیں توڑنی چاہیے ،تاہم اگر منگنی توڑنے کی کوئی شرعی وجہ ہے تو آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی بات پر اصرار نہ کریں کیوں کہ والدین اس معاملے میں زیادہ تجربہ کار ہوتے ہیں اور اگر کوئی شرعی وجہ نہیں ہے تو آپ کے والد کو چاہیے کہ آپ کی خواہش اور رضامندی کی رعایت رکھے ۔

حوالہ جات

الشامية :(3/ 58، ط:دارالفكر)
(ولا ‌تجبر ‌البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (قوله ولا تجبر البالغة) ولا ‌الحر ‌البالغ والمكاتب والمكاتبة ولو صغيرين ح عن القهستاني .

الهندية:(1/ 287، ط:دارالفكر)
لا يجوز نكاح أحد على بالغة ‌صحيحة ‌العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل.

الهداية :(1/ 191، ط: دار احياء التراث العربي )
ولا يجوز للولي إجبار ‌البكر ‌البالغة على النكاح .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1185کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --