معاملات / ترکات / احکام وراثت

مدرسے اور گھر میں لے پالک بیٹے اور بیوہ کی میراث

فتوی نمبر : 903 0000-00-00 88 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم مفتیان کرام! ہمارے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، جس کی اولاد نہیں تھی، ایک بچہ کسی نے دیا تھا، اب بھائی کا ایک گھر ہے اور ایک مدرسہ، اب پوچھنا یہ ہے اس گھر یا مدرسہ میں بیوہ کا کوئی حصہ بنتا ہے؟ اگر بنتا ہے تو کتنا ہوگا او ر اس بچے کا بھائی کے جائیداد میں کوئی حصہ ہوگا یا نہیں؟ تنقیح: مدرسے میں میراث سے کیا مراد ہے ؟ جواب تنقیح: ہمارے بھائی قاری صاحب تھے، ان کو والد صاحب نے گھر دیا اور ایک تین کمروں کا مکان مدرسے کے لیے وقف کر دیا، اب ان کی شادی ہوئے تقریبا 25، 30 سال ہو گئے، ان کی اولاد کوئی نہیں تھی، ان کے سالے نے ان کو ایک بیٹا دیا، وہ بچہ ماشاءاللہ اب جوان ہے، اب بھائی کا انتقال ہو گیا اب معلومات یہ کرنی ہے کہ آیا جو ہماری بیوہ بھابھی ہے، اس کا اس مدرسے یا گھر میں کوئی حصہ بنتا ہے؟ اگر بنتا ہے تو کتنا؟ اور اس بچے کی ولدیت میں برتھ سرٹیفیکیٹ میں بھائی نے اپنا نام لکھوایا ہے۔ اس بچے کا اب ہمارے بھائی کی جائیداد میں حصہ ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جو چیز وقف کر دی جائے، اس میں میراث جاری نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ کے لیے وقف رہتی ہے اور اس کو اس کے مصرف میں استعمال کرنا ضروری ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں مدرسہ میں میراث جاری نہیں ہوگی، البتہ ورثا میں سے جو مدرسہ سنبھالنے اور چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو، مدرسہ اس کے حوالے کیا جائے گا، البتہ اس کے علاوہ جو مرحوم کی ملکیت میں موجود اشیا تھیں وہ ورثا میں تقسیم کی جائیں گی۔ کسی بچے کو گود لے کر پالنا جائز ہے، لیکن ولدیت میں اپنا نام لکھوانا جائز نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے وہ میراث کا مستحق ہوگا، تاہم مرحوم کی بیوہ کو میت کے کل ترکہ سے ایک چوتھائی حصہ دیا جائے گا اور باقی تین حصے دیگر ورثا میں تقسیم ہوں گے۔

*القرآن الکریم:(6:12،النساء)* وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ.فان کان لکم ولد فلھن الثمن مِمَّا تَرَكْتُمْ من بعد وصیة. *القرآن الکریم:(الأحزاب:4:33)* "وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَآءَكُمْ أَبْنَآءَكُمْ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَٰهِكُمْ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي ٱلسَّبِيلَ ٱدْعُوهُمْ لِأٓبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخْطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا" *مشكاة المصابيح:(990/2، رقم الحديث:3314،ط:المكتب الاسلامي)* وعن سعد بن أبي وقاص وأبي بكرة قالا: قال رسول الله ﷺ: «من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام». *مرقاة المفاتيح:(2170/5،رقم الحديث :3314،ط: دارالفكر)* - (وعن سعد بن أبي وقاص وأبي بكرة قالا: قال رسول الله ﷺ: (من ادعى): بتشديد الدال أي انتسب (إلى غير أبيه وهو يعلم): أي: والحال أنه يعلم (أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام): أي: إن اعتقد حله، أو قبل أن يعذب بقدر ذنبه، أو محمول على الزجر عنه ; لأنه يؤدي إلى فساد عريض، وفي بعض النسخ: فالجنة حرام عليه، وهو مخالف للأصول المعتمدة. (متفق عليه) . *المبسوط للسرخسی:( 12/ 44،ط: دار المعرفة)* قال (ولا یجعل القیم من الأجانب ما وجد من أہل بیت الموقف وولدہ من یصلح لذلک) ؛ لأنہ لو لم یذکر ہذا الشرط کان للقاضی أن ینصب أجنبیا إذا رأی المصلحة فی ذلک ومقصود الواقف أن یکون ذلک فی أہل بیتہ و ولدہ إما لیکون الوقف منسوبا إلیہ ظاہرا، أو؛ لأن ولدہ أشفق علی وقف أبیہ من غیرہ ویذکر ہذا فی الکتاب لیتحرز القاضی عن خلاف شرطہ. *البحر الرائق:(244/5،ط: دارالکتاب الاسلامی)* وفی الإسعاف لا یولی إلا أمین قادر بنفسہ أو بنائبہ لأن الولایة مقیدة بشرط النظر ولیس من النظر تولیة الخائن لأنہ یخل بالمقصود وکذا تولیة العاجز لأن المقصود لا یحصل بہ.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
میراث تقسیم نہ کرنے کی صورت میں ورثاگناہ گار ہوں گے
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والد کے زندگی میں جائیداد تقسیم ہونے کی صورت میں میراث کی تقسیم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والد کی زندگی میں فوت ہونے والے بیٹے کی بیوی اوربچوں کا حصہ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
چار بھائی اور چھ بہنوں کے درمیان میراث کی تقسیم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیٹیوں کے ہوتے ہوئے میراث میں حقیقی بہن کا حصہ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ترکے کے گھر میں ایک بھائی کی رہائش کی صورت میں گیس بجلی کے بل کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والدكا اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والد کا اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کی ایک صورت
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اولاد کی موجودگی میں پوتے کی وراثت کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والدین کا اپنی زندگی میں اپنے بچوں کے درمیان ایک کروڑ کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوہ چھ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں تقسیم میراث
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والد کا اپنی اولادمیں جائیداد تقسیم کرکے ایک بچے کو نہ دینے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوہ،بھائی،پھوپھو،خالہ اور ماموں میں تقسیم میراث
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیٹی کی میراث اور کریہ پر دیے گئے مکان پر زکوٰۃ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والدہ کا اپنی زندگی میں جائیداد سے ایک بچے کو محروم کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والدین کا اپنی اولاد کو زندگی میں حصہ دینے کے بعد میراث میں حصہ ملے گا ؟
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
دو بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوہ ،چار بیٹیوں، ایک بہن اور نو بھتیجوں کے درمیان میراث کی تقسیم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بھائی کی میراث میں بھتیجوں کا حصہ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بڑے بیٹے کی ذاتی کمائی میں دوسرے بیٹوں کا حصہ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
چار بیٹوں اور تین بیٹیوں میں میراث کی تقسیم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والد کے انتقال کے بعد میراث کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والدہ کے میراث میں اولاد کا حصہ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوہ،تین بیٹیوں اور ایک بیٹے میں میراث کی تقسیم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والد کے انتقال کے بعد میراث کا حکم