مفتی صاحب ! ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ اگر میں نے یہ کام کیا ہو تو میری بیوی کو طلاق ہے اور اس نے ماضی میں وہی کام کیا تھا؟ اس کا کیا حکم ہے
واضح رہے کہ اگر طلاق کو ماضی کے کسی ایسے کام پر معلق کیا گیا ہو جو پہلے ہی واقع ہو چکا ہو تو اس صورت میں طلاق فوراً واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ ماضی کے کسی کام پر طلاق کو معلق کرنا طلاقِ منجَّز (نافذ) کے حکم میں ہوتا ہے، لہٰذا مذکور شخص کا اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ "اگر میں نے یہ کام کیا ہو تو میری بیوی کو طلاق ہے" اور وہ شخص حقیقت میں وہ کام پہلے ہی کر چکا تھا تو اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی۔
الهندية:(51/2،ط:دارالفكر) وفي المحلوف عليه أن يكون أمرا في المستقبل فلا يكون التعليق بأمر كائن يمينا بل تنجيزا حتى لو قال لامرأته: أنت طالق، وإن كانت السماء فوقنا يقع الطلاق في الحال. بدائع الصنائع : (3/ 26،ط:دار الكتب العلمية) (وأما) . الذي يرجع إلى المحلوف عليه وهو الشرط فمنها أن يكون أمرا في المستقبل فلا يكون التعليق بأمر كائن يمينا بل يكون تنجيزا حتى لو قال لامرأته أنت طالق إن كانت السماء فوقنا يقع الطلاق في الحال.