میں امید سے ہوں پانچ ماہ حمل کو ہوگئے ہیں، میرے شوہر نے مجھے میسج پر یہ لکھا کہ اگر آج کے دن یہ کام نہیں کیا تو طلاق پکی ہے، ایسی زندگی نہیں چاہیے۔ وہ کام نہیں ہوا تو اب کیا حکم ہے؟
پوچھی گئی صورت میں ایک صریح طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کردیا گیا تھا اور شرط پائی گئی ہے، لہذا ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے، طلاق رجعی واقع ہونے کی صورت میں شوہر کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے ، رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر عدت (یعنی تین حیض) مکمل ہونے سے پہلے بیوی سے یہ کہے: "میں رجوع کرتا ہوں"، یا بیوی کو شہوت کے ساتھ چھو لے، بوسہ دے، گلے لگائے، شرمگاہ کے اندرونی حصے کو دیکھ لے یا ہمبستری کر لے تو وہ عورت بدستور اس کی بیوی ہی رہے گی ، اگر عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو عدت کے بعد نکاح ختم ہو جائے گا ، پھر دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے ایجاب و قبول کے ساتھ تجدید نکاح کرنا ضروری ہوگا، دونوں صورتوں میں اب شوہر کے پاس آئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا ۔ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے، لہذا اگر شوہر حمل کے دوران رجوع کرتا ہے تو آپ بدستور اسی کی بیوی رہیں گی، ورنہ دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا ۔
الهندية:(1/ 428، ط: دارالفكر) وإن قال: أنت طالق إن أكلت وإن شربت أو قال: إن أكلت فأنت طالق وإن شربت فأيهما وجد نزل الجزاء ولا تبقى اليمين . الموسوعة الفقهية :(29/ 37، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية) إذا قال لزوجته: أنت طالق إن دخلت دار فلان، أو: أنت طالق إن ذهبت أنا إلى فلان، أو: أنت طالق إن زارك فلان ... فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق.