السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو زبردستی گھر سے نکال دے، طلاق کے الفاظ نہ کہے تو کیا صرف گھر سے نکالنے کی وجہ سے طلاق ہو جاتی ہے؟
واضح رہے کہ اسلام نے شوہر کو بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کے حقوق کی رعایت کا حکم دیا ہے، لہٰذا بیوی کو گھر سے نکالنا مناسب نہیں، بلکہ شوہر کو چاہیے کہ باہمی محبت، احترام اور حکمت کے ساتھ گھریلو معاملات کو حل کرے، تاہم جب تک شوہر طلاق نہ دے ،یا عورت خلع نہ لے ،تب تک وہ شوہر کے نکاح میں ہے، بغیر طلاق دیے صرف گھر سے نکالنے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
الشامية : (3/ 230، ط: دارالفكر) (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر. الهندية: (1/ 348، ط: دارالفكر) (أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق (وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي . بدائع الصنائع : (3/ 187، ط: دارالكتب العلمية ) وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر.