السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ حضرت جی! اگر ایک آدمی حرمین شریفین کی ویڈیوز اور حرمین شریفین کے آئمہ کرام کی ویڈیوز، تلاوت، ٹک ٹاک پر نشر کرتا ہے تو اس پر جو پیسے آتے ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ یوٹیوب،ٹک ٹاک اور فیس بک پر ویڈیو اپلوڈ کرکے منافع حاصل کرنا درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ ( 1)جو ویڈیو اپلوڈ کی گئی ہے، وہ جاندار کی تصاویر ، میوزک اور غیر شرعی امور سے پاک ہو۔ (2)ویڈیو میں جو اشتہارات چلائے جاتے ہیں، وہ بھی کسی حرام اور ناجائز کام کے نہ ہوں، بلکہ حلال اور جائز کام کے ہوں۔ (3)ویڈیو مفید معلومات پر مشتمل ہو، کسی قسم کی کوئی بیہودگی اس میں نہ ہو ۔ ان شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے آئمہ حرمین شریفین کی تلاوت کی ویڈیوز نشر کرنا اور اس سے آمدن حاصل کرنا جائز ہے ۔
الموسوعة الفقهية : (1/ 290، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية ) الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة وعقدها باطل لا يستحق به أجرة.ولا يجوز استئجار كاتب ليكتب له غناء ونوحا؛ لأنه انتفاع بمحرم. المحيط البرهاني:(5/ 358، ط: دار الكتب العلمية ) وفي «المنتقى» : إبراهيم عن محمد امرأة نائحة، أو صاحب طبل أو مزمار اكتسب قال: إن كان على شرط رده على أصحابهم إن عرفهم يريد بقوله على شرط إن شرطوا لها أو له مالاً بإزاء النياحة أو بإزاء الغناء؛ وهذا لأنه إذا كان الأخذ على شرط كان المال بمقابلة المعصية، فكان الأجر معصية، والسبيل في المعاصي ردها .