ایک آڑتھی(Commission Agent) پولیس کی خاطرداری کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی اچھی پکڑ بن گئی، اب کوئی راستے میں گاڑی پکڑی گئی گاڑی کے مالک نے اس آڑتھی کو فون کیا، کہ گاڑی نکلوا دو ،اس آڑتھی نے 500 روپے مانگے اور پولیس کو فون کر کے گاڑی نکلوا دی پولیس کو 500 میں سے 200 روپے دیے یا نہیں دیے ،تو اس آڑتھی کے لیے یہ رقم لینا درست ہے یا نہیں؟
پوچھی گئی صورت رشوت کی ہے ،لہذا اس صورت میں پیسہ لینا دینا درست نہیں ،بلکہ حرام ہے ۔
سنن أبي داود: (5/ 433 ،رقم الحديث : 3580،ط:دارالرسالة العالمية ) عن أبي سلمة عن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي. الشامية : (2/ 292، ط: دارالفكر) إن لم يكن عين الغصب أو الرشوة؛ لأنه لم يملكه فهو نفس الحرام فلا يحل له ولا لغيره. المبسوط للسرخسي : (16/ 67،ط: دارالمعرفة ) وقوله لا يرتشي المراد الرشوة في الحكم وهو حرام قال صلى الله عليه وسلم «الراشي والمرتشي في النار» ولما قيل لابن مسعود رضي الله عنه الرشوة في الحكم سحت قال ذلك الكفر إنما السحت أن ترشو من تحتاج إليه أمام حاجتك.