السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و متین اس بارے میں کہ زید مختلف کمپنیوں کے ساتھ دوائیوں کی تجارت کرتا ہے، کمپنی والے زید کو کچھ ایڈوانس رقم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ رقم زید اپنے کاموں میں خرچ کر سکتا ہے، ضرورت کے مطابق زید جیسے جیسے کمپنی والے سے دوائی خریدے گا تو کمپنی والے اس میں سے تھوڑی تھوڑی رقم زید کو دی گئی ایڈوانس رقم میں سے کاٹیں گے جب زید کو دی گئی ایڈوانس رقم ختم ہو جائے گی تو نئے سرے سے دونوں فریقین کی رضامندی سے دوبارہ زید کو مزید رقم دی جاسکتی ہے اور اس میں سے کسی قسم کی اضافی کٹوتی نہیں ہوگی اور نہ ہی زید اس بات کا پابند ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دوائی خریدے اور جب چاہے زید یا کمپنی والے اس معاملے کو ختم بھی کرسکتے ہیں ،
كيایہ شرعی طور پر درست ہے؟
*تنقیح:*
1 کمپنی سے جب خرید و فروخت کا معاملہ طے ہوا تب ہی قرض کی شرط رکھی گئی یا قرض بعد میں شامل کیا؟
2 اگر زید کمپنی سے قرض لے ، لیکن بعد میں ادویات نہ لے تو کیا ایسا ممکن ہے ؟
*جواب تنقیح:*
اصل میں یہ قرض ڈاکٹرز کے لیے ہوتا ہے، جو ان کو دو طریقوں سے دیا جاتا ہے۔
1 ۔ کچھ مہینے یہ دوائی چلانے کے بعد ایک مخصوص پرسنٹ کے لحاظ سے جو رقم بنتی ہے، وہ ڈاکٹرز کو دی جاتی ہے ، لیکن بعض اوقات کمپنی کے نمائندہ غائب ہونے کی وجہ سے یہ رقم ڈاکٹر کو نہیں مل پاتی یا تو ڈاکٹر کے نام پر وہ خود ہڑپ کر لیتا ہے یا پھر نمایندہ کے چلے جانے کے بعد کمپنی کا ڈاکٹر کے ساتھ رابطہ نہیں ہوتا ۔
2 دوسرے طریقے میں کمپنی والے ڈاکٹر کو کچھ رقم ایڈوانس دے دیتے ہیں ،
تاکہ ڈاکٹر کو اس کا حصہ پہنچ سکے ۔
اور ڈاکٹر یا کمپنی اس کو منسوخ کر نا چاہے تو کسی بھی وقت منسوخ کر سکتے ہیں۔
(1) پہلی صورت میں اگر ڈاکٹرز کو کمیشن دینے کی وجہ سے دوائی کے ریٹ میں نہ فرق آتا ہو نہ ادویات کے معیار میں کمی کی گئی ہو اور نہ ہی وہ ڈاکٹر مریض کو بلا ضرورت ادویات لکھ کر دے تو اس کے لیے یہ کمیشن لینا جائز ہے ۔
(2) دوسری صورت جائز نہیں، کیونکہ اس میں قرض کو بیع کے ساتھ مشروط کیا جا رہا ہے اور یہ قرض پر نفع لینا ہے، جو کہ حرام ہے، لہذا اس سے احتراز کیا جائے۔
*العناية شرح الهداية:(233/12،ط:دار الكتب العلمية)*
وأخرج البيهقي أيضا من حديث إدريس بن يحيى عن عبد الله بن عياش حدثنا يزيد بن حبيب، عن أبي مرزوق النخعي عن فضالة بن عبيد أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا.
*الشامية:(166/5،ط:دارالفكر)*
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن.
*ایضاً: (6/ 63)*
«وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.
*المحيط البرهاني:(126/7،ط:دار الكتب العلمية)*
قال محمد في كتاب الصرف: إن أبا حنيفة كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض عادلية صحاحًا أو ما أشبه ذلك، فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد، فأعطاه المستقرض أجود مما عليه، فلا بأس به.
*ایضاً: (7/ 126)*
وكذلك إذا أقرض الرجل رجلاً دراهم أو دنانير ليشتري المستقرض متاعاً بثمن غال فهو مكروه، وإن لم يكن شراء المتاع مشروطاً في القرض، ولكن المستقرض اشترى من المقرض بعد القرض متاعاً بثمن غال فعلى قول الكرخي: لا بأس به. وذكر الخصاف في «كتابه» وقال: ما أحب له ذلك، وذكر شمس الأئمة الحلواني أنه حرام؛ لأن هذا قرض جر منفعة؛ لأنه يقول: لو لم أشتره منه طالبني بالقرض في الحال. وذكر محمد رحمه الله في كتاب الصرف: أن السلف كانوا يكرهون ذلك.
*ایضاً: (7/ 11)*
وأجرة السمسار تضم إن كانت مشروطة في العقد بالإجماع، وإن لم تكن مشروطة بل كانت موسومة، أكثر المشايخ على أنها لا تضم، ومنهم من قال: لا تضم أجرة الدلال بالإجماع، بخلاف أجرة السمسار إذا كانت مشروطة في العقد.