مفتی صاحب ! منڈی والے لوگ کاشتکاروں کو اس شرط پر قرض دیتے ہیں، کہ آپ فصل منڈی میں میری دکان پر ہی لائیں گے، تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اور کیا اس شرط کو پورا کرنا لازم ہے ؟
پوچھی گئی صورت میں منڈی والوں کا کاشتکاروں کو خرچ دیتے وقت یہ شرط لگانا کہ فصل کو منڈی میں ہماری ہی دکان پر لائیں گے یہ شرط فاسد ہے ،اس شرط کے ساتھ قرض دینا لینا جائز نہیں اور اگر اس شرط کے ساتھ قرض لے لیا، تو اس شرط کا پورا کرنا اور قرض دینے والی کی دکان پر فصل لے کر جانا شرعا ضروری نہیں، البتہ اگر منڈی والا کاشتکار سے فصل اسی قیمت پر خریدتا ہے جتنے پر دوسروں سے خریدتا ہے تو اس کو فصل بیچنا جائز ہے۔
الهندية: (3/ 202، ط: دارالفكر) قال محمد - رحمه الله تعالى - في كتاب الصرف إن أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به. الدرالمختار : (5/ 166، ط: دارالفكر) وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (1/ 86، ط: دارالجيل ) يوجد عقود تصح مع الشرط الفاسد أي الذي ليس من مقتضيات العقد ويكون غير ملائم له، ويكون الشرط لغوا وغير معتبر وهي: (1) الوكالة (2) القرض (3) الهبة (4) الصدقة (5) الرهن (6) الإيصاء (7) الإقالة (8) حجر المأذون. مثال: إذا قال شخص لآخر: إنني وكلتك في الأمر الفلاني بشرط أن تبرئني من الدين والوكيل قبل بذلك فالوكالة صحيحة ولكن الشرط لغو.