کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ا س مسئلہ کےبارے میں کہ کیا یوٹیوب کی کمائی جائز ہے ؟
واضح رہے کہ یوٹیوب پر ویڈیو اپلوڈ کرکے منافع حاصل کرنا درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے
(۱)جو ویڈیو اپلوڈ کی گئی ہے وہ جاندار کی تصاویر ، میوزک اور غیر شرع امور سے پاک ہو
(۲)ویڈیومیں جو اشتہارات چلائے جاتے ہیں وہ بھی کسی حرام اور ناجائز کام کے نہ ہو بلکہ حلال اور جائز کام کے ہوں
(۳)ویڈیو مفید معلومات پر مشتمل ہو کسی قسم کی کوئی بیہودگی اس میں نہ ہو ۔
الموسوعة الفقهية : (1/ 290، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة وعقدها باطل لا يستحق به أجرة.ولا يجوز استئجار كاتب ليكتب له غناء ونوحا؛ لأنه انتفاع بمحرم.
المحيط البرهاني:(5/ 358، ط: دار الكتب العلمية )
وفي «المنتقى» : إبراهيم عن محمد امرأة نائحة، أو صاحب طبل أو مزمار اكتسب قال: إن كان على شرط رده على أصحابهم إن عرفهم يريد بقوله على شرط إن شرطوا لها أو له مالاً بإزاء النياحة أو بإزاء الغناء؛ وهذا لأنه إذا كان الأخذ على شرط كان المال بمقابلة المعصية، فكان الأجر معصية، والسبيل في المعاصي ردها .