ایک مدرسے میں ایک استاذ اور ایک طالبِ علم کے درمیان جھگڑا ہوگیا، اسی دوران استاذ نے غصے کی حالت میں کہا: ’’اگر اس طالبِ علم نے اسی مدرسے میں دوبارہ سبق پڑھا تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ استاذ اس مدرسے سے چلا گیا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر آئندہ وہ طالبِ علم اسی مدرسے میں دوبارہ پڑھنے لگے تو کیا اس استاذ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی یا نہیں؟
جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب بھی یہ شاگرد اس مدرسے میں پڑھے گا تو اس استاد کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور ان کی بیوی ان پر حرام ہو جائے گی۔
الهندية:(1/ 420،ط:دارالفکر) وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق. فتح القدير:(4/ 116،ط:دارالفکر) «وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط». الدرالمختار: (3/ 352، ط: دارالفكر) كأنت طالق لو دخلت الدار تعلق بدخولها، ومن نحو من دخل منكن الدار فهي طالق.