محترم و مکرم قاضی صاحب! امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے۔ ایک مالی معاملے کے متعلق قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں مدلل، واضح اور تسلی بخش شرعی رہنمائی مطلوب ہے، تاکہ کسی ناجائز یا سودی معاملے میں مبتلا ہونے سے بچ سکوں۔ مسئلے کی صورتِ حال یہ ہے کہ: میں تقریباً 30 لاکھ روپے مالیت کی ایک گاڑی خریدنا چاہتا ہوں۔ اگر مکمل رقم نقد ادا کرکے گاڑی خریدی جائے تو ٹیکس وغیرہ کے حوالے سے بعض مسائل پیش آتے ہیں۔ اس وجہ سے میں درج ذیل طریقہ اختیار کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہوں: گاڑی کی قیمت تقریباً 30 لاکھ روپے ہے۔میں تقریباً 5 لاکھ روپے بطور ڈاؤن پیمنٹ ادا کروں گا۔باقی تقریباً 25 لاکھ روپے بینک سے Loan کی صورت میں لے کر گاڑی خریدوں گا اور بینک کو مقررہ ماہانہ EMI کے ذریعے رقم واپس کروں گا۔ چونکہ میرے پاس کچھ رقم موجود ہے، اس رقم کو بینک میں Fixed Deposit (FD) میں رکھنے کا بھی ارادہ ہے۔مذکورہ FD پر بینک کی طرف سے ہر ماہ ایک مقررہ/طے شدہ رقم حاصل ہوگی۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ FD سے حاصل ہونے والی رقم کو بینک کی طرف سے قرض پر عائد کیے جانے والے Interest/سود کی ادائیگی میں استعمال کر دوں۔ اگر FD سے حاصل ہونے والی رقم میں سے سود کی ادائیگی کے بعد کچھ رقم بچ جائے تو اس بچی ہوئی رقم کو کسی کے علاج و معالجہ، یا کسی ضرورت مند کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہوں، کیا یہ شرعاً جائز ہوگا؟ نیز وضاحت مطلوب ہے کہ گاڑی کی اصل EMI کی رقم میں FD سے حاصل ہونے والی رقم شامل نہیں کروں گا؛ بلکہ FD سے حاصل ہونے والی رقم صرف بینک کے سودی حصے کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ ہے: کیا مذکورہ طریقے سے بینک سے Loan لے کر گاڑی خریدنا شرعاً جائز ہے؟ براہِ کرم حوالہ جات کے ساتھ تفصیلی اور مدلل جواب مرحمت فرمائیں، تاکہ مسئلے کی صحیح شرعی حیثیت واضح ہو جائے اور میں کسی ناجائز یا سودی معاملے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہ سکوں۔ والسلام
واضح رہے کہ ہر وہ قرض جس پر نفع حاصل کیا جائے، سود کے زمرے میں آتا ہے اور سود کا لینا اور دینا دونوں شرعاً ناجائز اور حرام ہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر بینک سے پچیس لاکھ روپے قرض لے کر اس پر اصل رقم سے زائد رقم مقررہ ماہانہ اقساط (EMI) کی صورت میں واپس کرنا لازم ہو تو یہ زائد رقم شرعاً سود کے حکم میں ہوگی، کیونکہ یہ قرض پر مشروط اضافی نفع ہے، اس لیے ایسے سودی قرض کے ذریعے گاڑی خریدنا شرعاً جائز نہیں۔ اسی طرح بینک میں رقم بطور FD (فکسڈ ڈپازٹ) رکھنا بھی قرض کے حکم میں ہے، لہٰذا اگر اس پر بینک کی طرف سے پہلے سے طے شدہ منافع حاصل ہو تو وہ بھی شرعاً سود ہے، اس سودی آمدنی کو ذاتی ضروریات میں بھی استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اسے بینک کے قرض پر واجب ہونے والے سود کی ادائیگی میں استعمال کرنا درست ہے، لہٰذا اس بنیاد پر مذکورہ طریقہ اختیار کرنا شرعاً درست نہیں، اگر سودی رقم حاصل ہو چکی ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحق، فقیر یا ضرورت مند کو دے کر اس سے خلاصی حاصل کی جائے۔ اور گاڑی خریدنے کے لیے سود سے پاک اور شرعی طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
الشامية:(166/5،ط:دارالفكر) وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن. المنهل العذب: (1/ 208،ط:مطبعة الاستقامة) قالوا إن من أخذ مال غيره بلا وجه شرعي لزمه ردّه لصاحبه إن كان حيا وإلا ردّه على ورثته فإن لم يكن له ورثة يتصدّق به عنه ويرجى له الخلاص بوم القيامة وكذا إذا لم يدر صاحبه أو استولى عليه بعقد فاسد ولم يتمكن من فسخه فإنه يتصدق به على الفقراء تخلصا من الحرام لا طمعا في الثواب. وهذا لا ينافي الحديث ولا قوله تعالى "ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون" لأنهما يدلان على حرمة التصدق بالمال الحرام طمعا في الأجر والثواب. الهداية: (4/ 394،ط:دار احياء التراث العربي) ومن كان له على مسلم دين فأوفاه ثمن خمر لا يحل له أن يأخذه، ولا للمديون أن يؤديه؛ لأنه ثمن بيع باطل وهو غصب في يده أو أمانة على حسب ما اختلفوا فيه كما في بيع الميتة.