السلام عليكم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے تین دخول کے ساتھ تین طلاق، یعنی طلاق کو دخول (وطی کے دوران دخول مراد ہے ) کے ساتھ معلق کیا، اب وطی کرنے سے پہلے کیا کوئی راستہ کوئی شرعی حیلہ اس مسئلے کے بارے میں مل سکتا ہے یا نہیں؟
جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب بھی یہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ دخول کرے گا تو دخول کے ساتھ ہی تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور یہ عورت اس مرد پر حرام ہو جائے گی، اس صورت میں تین طلاق سے بچنے کا کوئی حیلہ نہیں ہے ۔
الهندية:(1/ 420،ط:دارالفکر) وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق. فتح القدير:(4/ 116،ط:دارالفکر) «وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط». الدرالمختار: (3/ 352، ط: دارالفكر) كأنت طالق لو دخلت الدار تعلق بدخولها، ومن نحو من دخل منكن الدار فهي طالق.