اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے کہ اگر تو آئندہ بازار گئی تو تجھے دو طلاق، کیا وہ جب بھی جائے گی تو طلاق ہوگی؟
واضح رہے کہ طلاق کو جس شرط کے ساتھ معلق کیا گیا، اگر وہ شرط پائی گئی تو طلاق واقع ہو جائے گی، لہذا پوچھی گئی صورت میں شخص مذکور نے دو طلاق رجعی کو بازار جانے کے ساتھ معلق کیا ہے، اس لیے جب بھی بیوی بازار جائے گی تو دو رجعی طلاقیں واقع ہو جائیں گی، جس میں شوہر عدت کے دوران بغیر نئے نکاح اور نئے مہر کے اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہے، اگر عدت گزر جائے تو دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا ضروری ہوگا،البتہ آئندہ کے لیے شوہر کے پاس ایک طلاق کا حق رہے گا۔
الهندية: (1/ 428، ط: دارالفكر) ولو قال لها: إن كلمت فلانا فأنت طالق وقال لها أيضا: إن كلمت إنسانا فأنت طالق فكلم فلانا طلقت تطليقتين. الموسوعة الفقهية الكويتية: (29/ 38، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية ) فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق، دون اشتراط الفور إلا أن ينويه، وإذا لم يحصل لم يقع، سواء في ذلك أن يكون الشرط المعلق عليه من فعل الحالف أو المحلوف عليها، أو غيرهما، أو لم يكن من فعل أحد، هذا إذا حصل الفعل المعلق عليه طائعا ذاكرا التعليق، فإن حصل منه الفعل المعلق عليه ناسيا أو مكرها وقع الطلاق به أيضا عند الجمهور. الهندية:(1/ 470،ط:دارالفکر) وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.