ایک شخص نے غصے کی حالت میں یہ کہا کہ اگر میں اپنی بیٹی کو اس کے شوہر کے گھر بھیجوں تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے، پھر اس نے بیٹی کو تین مہینے کے بعد اس کے گھر بھیج دیا تو کیا اس کی بیوی کو طلاق واقع ہو گئی؟
واضح رہے کہ طلاق کو جس شرط کے ساتھ معلق کیا گیا، اگر وہ شرط نہ پائی جائے تو طلاق واقع نہیں ہوتی اور اگر وہ شرط پائی گئی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ پوچھی گئی صورت میں شخصِ مذکور کا یہ کہنا کہ"اگر میں بیٹی کو اس کے گھر بھیجوں تو میری بیوی کو طلاق" طلاق کو ایک شرط کے ساتھ معلق کرنا ہے، لہٰذا جب اس نے بیٹی کو اس کے گھر بھیج دیا تو ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی، اب شوہر عدت کے دوران بغیر نئے نکاح اور نئے مہر کے اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے۔ اگر عدت گزر جائے تو دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
الهندية: (1/ 428، ط: دارالفكر) ولو قال لها: إن كلمت فلانا فأنت طالق وقال لها أيضا: إن كلمت إنسانا فأنت طالق فكلم فلانا طلقت تطليقتين. الموسوعة الفقهية الكويتية: (29/ 38، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية ) فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق، دون اشتراط الفور إلا أن ينويه، وإذا لم يحصل لم يقع، سواء في ذلك أن يكون الشرط المعلق عليه من فعل الحالف أو المحلوف عليها، أو غيرهما، أو لم يكن من فعل أحد، هذا إذا حصل الفعل المعلق عليه طائعا ذاكرا التعليق، فإن حصل منه الفعل المعلق عليه ناسيا أو مكرها وقع الطلاق به أيضا عند الجمهور. الهندية:(1/ 470،ط:دارالفکر) وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.