مفتی صاحب! میں نے مدرسے جانا شروع کیا تھا شوہر کی اجازت کے بغیر، شوہر کی میرے ساتھ لڑائی ہوئی، انہوں نے مجھے کہا کہ اگر آئندہ تم مدرسے گئی تو تمھیں ایک طلاق ہے، کیا اس طرح طلاق واقع ہو جائے گی اگر مدرسے گئی؟
واضح رہے کہ طلاق کو جس شرط کے ساتھ معلق کیا گیا، اگر وہ شرط پائی گئی تو طلاق واقع ہو جائے گی، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کے شوہر نے ایک طلاق رجعی کو مدرسے جانے کے ساتھ معلق کیا ہے، اس لیے اگر آپ مدرسے جائیں گی تو ایک رجعی طلاق واقع ہو جائے گی، جس میں شوہر عدت کے دوران بغیر نئے نکاح اور نئے مہر کے اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہے، اگر عدت گزر جائے تو دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
الهندية: (1/ 428، ط: دارالفكر) ولو قال لها: إن كلمت فلانا فأنت طالق وقال لها أيضا: إن كلمت إنسانا فأنت طالق فكلم فلانا طلقت تطليقتين. الموسوعة الفقهية الكويتية: (29/ 38، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية ) فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق، دون اشتراط الفور إلا أن ينويه، وإذا لم يحصل لم يقع، سواء في ذلك أن يكون الشرط المعلق عليه من فعل الحالف أو المحلوف عليها، أو غيرهما، أو لم يكن من فعل أحد، هذا إذا حصل الفعل المعلق عليه طائعا ذاكرا التعليق، فإن حصل منه الفعل المعلق عليه ناسيا أو مكرها وقع الطلاق به أيضا عند الجمهور. الهندية:(1/ 470،ط:دارالفکر) وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.