مفتی صاحب ! ہمارے ایک کزن نے اپنی بیوی کو جھگڑے کی حالت میں بلوچی زبان میں ایک، دو، تین کہا تو کیا اس سے طلاق واقع ہو گئی؟
واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے شوہر کی جانب سے طلاق کا کوئی لفظ زبان سے ادا کرنا ضروری ہے، خواہ وہ صریح لفظ ہو یا کنایہ، محض دل میں طلاق کا ارادہ کرنے یا زبان سے صرف ’’ایک، دو، تین‘‘ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں شخص مذکور نے طلاق کا کوئی لفظ ادا نہیں کیا ، صرف ’’ایک، دو، تین‘‘ کہا ہے، اس سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم اس طرح کے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
الشامية: (3/ 230،ط:دارالفكر) (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي. وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي. الهندية: (1/ 357،ط:دارالفكر) ولو قالت لزوجها طلقني فأشار بثلاث أصابع وأراد بذلك ثلاث تطليقات لا يقع ما لم يقل بلسانه هكذا كذا في الظهيرية.