اگر اس گروپ میں کوئی عالمِ دین یا مفتی صاحب موجود ہیں تو براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں، مجھے یہ معلومات درکار ہیں کہ اگر کوئی شخص رشوت دے کر نوکری حاصل کرتا ہے تو کیا اس شخص کی اس نوکری سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہوگی یا حرام؟ جزاکم اللہ خیراً۔
اسلام میں رشوت دینا اور لینا دونوں سخت گناہ اور حرام ہیں، احادیث میں رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی گئی ہے، اس لیے کسی بھی مسلمان کے لیے رشوت کے ذریعے ملازمت یا کوئی دوسرا فائدہ حاصل کرنا ناجائز ہے، البتہ اگر کوئی شخص واقعی حق دار ہے، اس کے تمام کوائف مکمل ہیں اور حق حاصل کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے تو ایسی صورت میں صرف اپنا حق لینے کے لیے بوقت ضرورت بقدر ضرورت رشوت دینے کی گنجائش ہے، مگر لینے والا پھر بھی سخت گناہگار ہوگا۔ پوچھی گئی صورت میں اگر شخص مذکور حقدار ہے اور رشوت دیے بغیر اپنا حق حاصل نہ ہو سکتا ہو اور کوئی دوسرا راستہ بھی نہ ہو تو رشوت دینے کی گنجائش ہے، لیکن اگر حقدار نہیں اور نوکری حاصل کرنے کے لیے رشوت دے کر دوسروں کا حق حاصل کرنا چاہتا ہے تو یہ ناجائز ہے۔
سنن الترمذي:(16/3،رقم الحديث:1337،ط: دارالغرب الإسلامي) حدثنا أبو موسى محمد بن المثنى، قال: حدثنا أبو عامر العقدي، قال: حدثنا ابن أبي ذئب ، عن خاله الحارث بن عبد الرحمن ، عن أبي سلمة ، عن عبد الله بن عمرو قال: «لعن رسول الله ﷺ الراشي» والمرتشي. مرقاة المفاتيح:(2437/6،رقم الحديث:3753،ط: دارالفكر) (وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما: بالواو (قال: «لعن رسول الله ﷺ الراشي والمرتشي»): أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ; لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلا يجوز لهم الأخذ عليه. الموسوعة الفقهية الكويتية:(219/22،ط: دار السلاسل) ويحرم طلب الرشوة وبذلها وقبولها كما يحرم عمل الوسيط بين الراشي والمرتشي غير أنه يجوز للانسان عند الجمهور أن يدفع رشوة للحصول على حق أو لدفع ظلم أو ضرر ويكون الاثم على المرتشي دون الراشي قال أبو الليث السمرقندي لا بأس أن يدفع الرجل عن نفسه وماله بالرشوة.