السلام وعلیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ محترم جناب مفتی صاحب! میرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم پانچ بہنیں اور تین بھائی ہیں، میرے والد صاحب اور والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا ہے، ہماری ایک کروڑ کی وراثت ہے، برائے مہربانی آپ اس ترکے کو ہم آٹھ بہن، بھائیوں میں تقسیم فرما دیں۔ اللہ آپکا حامی وناصر ہو۔آمین۔
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل مال گیارہ (11) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے ہر ایک بیٹے کو دو (2) حصے،جبکہ ہر ایک بیٹی کو ایک (1) ایک (1)حصہ دیا جائے گا، اس تقسیم کی رو سے ایک کروڑ کی مالیت میں سے ہر بیٹے کو اٹھارہ لاکھ، اٹھارہ ہزار، ایک سو، اکیاسی (1818181.82) روپے دیے جائیں گے،جبکہ ہر ایک بیٹی کو نو لاکھ، نو ہزار، نوے (909090.91) روپے ملیں گے۔
القرأن الكريم : [النساء:4:11] ﴿يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ﴾ الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر) وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.