ایک مسئلہ ہے مفتی صاحب! ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ آپ تو میرے نکاح ہی میں ہو، لیکن اگر آپ نے میری خدمت کی تو آپ مجھ پر طلاق ہو اور طلاق سے مراد خدمت ہے ۔اس کا کیا حکم ہے؟ اور مفتی صاحب اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی، بلکہ دھمکی اور ڈرانا مقصود تھا؟
واضح رہے کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں اگر وہ شرط پائی جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، اگر وہ شرط نہ پائی جائے تو طلاق واقع نہیں ہوتی ، اگر شوہر صاف اور صریح الفاظ میں بیوی کےلیے"لفظ طلاق" استعمال کرے تو نیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا، بلکہ طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ طلاق کو خدمت کے ساتھ معلق کیا گیا ہے اور یہ الفاظ صریح ہیں تو اگرچہ کہنے والے کی نیت خدمت یا کسی اور معنی کی ہو، اگر شرط (شوہر کی خدمت کرنا) پائی جائے تو ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔
*سنن الترمذي:(476/2،ط:دار الغرب الإسلامي)* حدثنا قتيبة، قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل ، عن عبد الرحمن بن أردك ، عن عطاء ، عن ابن ماهك ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: «ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح»، والطلاق، والرجعة. *بدائع الصنائع:(101/3،ط:دار الكتب العلمية)* أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: «أنت طالق» أو «أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة» مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها.