السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! اگر کوئی شخص کسی جانور کے سینگ کاٹ دے تو کیا ایسے جانور کی قربانی جائز ہے؟
ہر وہ جانور جس کے سینگ جڑ سے نہ ٹوٹے ہوں، اس کی قربانی کرنا جائز ہے، اسی طرح وہ جانور جس کے سینگ اوپر سے تراش دیے گئے ہوں یا درمیان سے ٹوٹ گئے ہوں، جبکہ جڑ محفوظ ہو، اس کی قربانی بھی شرعاً درست ہے، البتہ اگر سینگ جڑ سے اکھڑ جائے تو ایسی صورت میں قربانی درست نہیں ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر جانور کے سینگ جڑ سے کاٹے یا اکھاڑے نہ گئے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ جڑ سے کاٹے یا اکھاڑے گئے ہوں اور اس کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو تو اس جانور کی قربانی جائز نہیں۔
*الشامية:(6/ ،ط:دارالفكر)* (قوله ويضحي بالجماء) هي التي لا قرن لها خلقة وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر إلى المخ لم يجز قهستاني، وفي البدائع إن بلغ الكسر المشاش لا يجزئ والمشاش رءوس العظام مثل الركبتين والمرفقين اه. *الهندية:(5/ 297،ط:داالفكر)* «. ويجوز بالجماء التي لا قرن لها، وكذا مكسورة القرن، كذا في الكافي.وإن بلغ الكسر المشاش لا يجزيه، والمشاش رءوس العظام مثل الركبتين والمرفقين، كذا في البدائع.