ایک شوہر نے غصے میں بیوی سے کہا کہ “اگر تم نے دوبارہ اُس اجنبی شخص سے کوئی رابطہ کیا پیغام، فون یا کسی بھی طرح تو میرا اور تمہارا تعلق ختم ہے۔”طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا اور شوہر کی نیت بھی طلاق دینے کی نہیں تھی، بلکہ صرف بیوی کو ڈرانا اور روکنا مقصود تھا ،بعد میں بیوی نے کسی سے پوچھا تو کہا گیا کہ طلاق ہو گئی ہے، مگر شوہر کی دونوں مرتبہ نیت طلاق کی نہیں تھی۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا ایسے الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟اور اگر ہوتی ہے تو وہ رجعی ہے یا بائن؟
پوچھی گئی صورت میں شوہر کے الفاظ ’’اگر تم نے دوبارہ اُس اجنبی شخص سے کوئی رابطہ کیا پیغام، فون یا کسی بھی طرح تو میرا اور تمہارا تعلق ختم ہے۔‘ طلاقِ کنائی کےالفاظ ہیں۔ لہذا اس جملہ سے اگر واقعۃًشوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو اس جملہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی چاہے بیوی وہ کام کر بھی لے جس کا ذکر اس جملہ میں ہے، لیکن اگر شوہر کی نیت طلاق کی تھی تو پھر بیوی کے مذکورہ کام کرتے ہی ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔
* الهندية (1/ 375،ط: دارالفکر)* ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك، أو قال: لم يبق بيني وبينك نكاح، يقع الطلاق إذا نوى. *البحر الرائق:(3/ 329-328،ط: دارالکتب العلمیة)* وفي جمع برهان: قال لم يبق بيني وبينك عمل ونوى الطلاق لا يقع، وفي فتاوى الفضلى خلافه، وفي التفاريق: قيل في قوله لم يبق بيني وبينك شيء أنه لا يصح………. وفي البزازية: طلبت منه الطلاق فقال لم يبق بيني وبينك عمل لم تطلق إلا أن ينوي به النكاح وينوي به إيقاع الطلاق فحينئذ يقع. *حاشية ابن عابدين:(214/1 ط: دارالفکر)* (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال).