السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا نکاح ہو جائے اور رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے تو لڑکی عدت پوری کرے گی یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے میاں بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ (ایسی تنہائی جس میں ازدواجی تعلق قائم ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو) ہو چکی ہو تو طلاق کی صورت میں عورت پر عدت گزارنا لازم ہوگا، اس دوران کسی اور سے نکاح بھی نہیں کر سکتی۔
البتہ اگر رخصتی اور خلوتِ صحیحہ دونوں نہ ہوئی ہوں تو طلاق کی صورت میں عورت پر عدت واجب نہیں ہوگی۔
*القران الكريم:( الاحزاب:49:33)*
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا.
*الهندية:(526/1، ط: دار الفکر)*
رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان۔
أربع من النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول.
*الشامية:(504/3 ،ط: دارالفکر دار الفکر)*
تحت (قوله وركنها حرمات)أي لزومات كما مر عن الفتح لا نفس التحريم أي أشياء لازمة للمرأة يحرم عليها تعديها (إلى قوله) (قوله كحرمة تزوج) أي تزوجها غيره فإنها حرمة عليها.